اسلام آباد پریس کلب کے باہر محنت کشوں کا احتجاجی مظاہرہ

ڈنڈوٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹیڈ ضلع جہلم کی بندش کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔
یہ فیکٹری ایک سال قبل تھری سٹار گروپ کے میاں منصور احمد اور 101 گروپ کے چوھدری سرور گورنر پنجاب کے نے خریدی تھی۔
مزدور یونین ڈنڈوٹ سیمنٹ فیکٹری کی سی بی اے یونین کا کہنا یہ ہے کہ ان گروپوں نے پچھلے 6 ماہ کے عرصہ میں فیکٹری سے 13 لاکھ ٹن سیمنٹ, جسکی مالیت 13 ارب روپے بنتی ہے مبعینہ طور پر چوری کیا ہے۔
ان کاروباری گرپس نے فیکٹری کی غیر قانونی بندش کرکے فیکٹری میں کام کرنے والے تمام محنت کشوں کو نہ صرف بے روزگار کیا ہے بلکہ انہوں پچھلے دس سال سے ریٹاہرڈ اور فوت ہو جانے مزدوروں کے بقایا جات بھی ادا نہیں کیے ہیں۔اور نہ ہی گروپس فیکٹری کی سابق انتظامیہ اور سی بی اے یونین کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کو ماننے کو تیار ہے
بے روزگاری اور مالی مشکلات کا شکار محنت کشوں نے مورخہ 2020۔10۔12 سے سالٹ رینج فیڈریشن کے زیر اہتمام ڈنڈوٹ سیمنٹ کمپنی کی بندش کے خلاف نیشنل پرہس کلب اسلام آ باد کے سامنے دھرنہ دیا ہوا ہے۔اور وہاں ان کا احتجاجی مظاہرہ جاری ہے جس میں ورکرز وفاقی وزیر قانون اور ان کے بھائ کے 101 گروپ اور گورنر پنجاب چوھدری محمد سرور کے کیلی کام گروپ کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہیں۔

ان کا یہ مطالبہ ہے کہ ڈنڈوٹ سیمنٹ فیکٹری کا فرانزک آڈٹ کروایا جاے تاکہ فیکٹری سے لوٹی ہوئ رقم کی واپسی ممکن ہو سکے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ فیکٹری سے نکالے گے مزدوروں کو ان کی ملازمت پر بحال کیا جاے اور فیکٹری کی غیر قانونی بندش کو ختم کیا جاے۔

ان کہنا ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ہم اپنے بیوی بچوں سمیت پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنہ دیں گے اور مطالبات کی منظوری تک یہ دھرنہ جاری رہیے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button