رپورٹ اجلاس بزم منشور

رپورٹ اجلاس بزم منشور

قومی آمدنی میں اضافہ کیے بغیر کوئ بھی حکومت صرف غیر ملکی قرضے لےکر عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتی۔

طلبا۔پروفیسر۔صحافی۔ریڈیو پاکستان کے ملازمین۔مزدور۔لیڈی ہیلتھ ورکرز سب سراپا احتجاج ہیں ۔کمر توڑ مہنگائ نے جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔حکمران کہاں غاہب ہیں ؟

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوے
محمد یعقوب۔فضل واحد۔زیبر وارثی۔اشتیاق چوھدری۔شوکت علی چوھدری۔مشتاق قمر۔پروفیسر محمد افضل۔کامریڈ محمد اکبراور محمد نصیر نے کہا جب بھی سیاست میں مین سٹریم آپس میں متحارب ہوتی ہیں تو عوام اور محنت کشوں کو space ملتی ہے ایسے موقعوں پر محنت کشوں کو اپنی تنظیم سازی کو بہتر کرنا چاہیے۔اس وقت لاکھوں ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ورکرز کام کر رہے ہیں ان کو یونین سازی کی آزادی حاصل نہیں ہے۔اداروں میں لیبر انسپکشن بھی غیر موثر ہے۔جس کی وجہ سے محنت کش سوشل سکیورٹی۔EOBI کی سہولتوں اور تقرری نامہ سے محروم ہیں

موجودہ حکومت اس وقت محنت کشوں اور عوام کے ساتھ نہیں,کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ کھڑی ہے

اسلام آباد میں مزدوروں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے 6 اور 14 اکتوبر کے دھرنوں نے پورے پاکستان کے مزدوروں کے اعتماد اور حوصلہ میں اضافہ کیا ہے اور حکومت کو بھی ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔

یہ وقت جب اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے کھڑی ہیں تو محنت کشوں کے پاس بھی تنظیم سازی کے لیے بہت اچھا وقت ہے وہ اس صورت حال سے فاہدہ اٹھاتے ہوے عوام کے ساتھ اپنی جڑت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

پنجاب کے طلبا اور مزدوروں نے ذکریا یونی ورسٹی ملتان کے بلوچ اور پختون طلبا کے سکالرشپ کے مسائل کے حل میں ان کا بھر پور ساتھ دے کر فراغ دلی کا ثبوت دیا ہے۔ا
اس وقت جب سیاسی فضاء خاصی گرم ہے تو محنت کشوں کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس صورت حال کا فاہدہ اٹھاتے ہوے منیمیم ویجز اور کنٹریٹ لیبر جیسے مسائل کے حل کے لیے حکومت پر دباو بڑھاہیں۔
اجلاس کے شرکا نے کہا جب تک حکومت اپنی قومی آمدنی میں اضافہ نہیں کرے گی صرف غیر ملکی قرض لے کر مزدوروں کسانوں اور کروڑوں عوام کے بنیادی مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔قومی بجٹ کا 93 فی صد سے زیادہ حصہ تو حکومتی معاملات کو نبٹانے اور قرضوں کے سود کی اداہیگی میں خرچ ہو جاتا ہے عوام کے تعلیم۔روزگار۔علاج کے لیے اور مہنگائ کے سد باب کے لیے تو بامشکل 3 فی صد رقم بچتی ہے جس سے عوامی فلاح کے کام ہونا ناممکن ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو ختم کر کے زراعت کو جدید بنیادوں پر ترقی دے اور ملک کی صنعتی بنیاد کو مضبوط بناے ۔

پاکستان کے حکمرانوں کی ترجحات میں عوام کا نمبر سب سے آخر میں ہوتا ہے وہ الگ بات ہے کہ حکمران ہر وقت عوام عوام کرتے ہیں لیکن ان کے پاس عوام کو دینے کو کچھ نہیں ہوتا یہ ہی وجہ ہے کہ آج ہر شعبہ زندگی سراپا احتجاج ہے اور اگر حکمرانوں نے عوام کو نظر انداز کرنے کی پالیسی نہ بدلی اور ملک کی قومی پیداوار اور قومی آمدنی میں اضافہ نہ کیا اور سرکاری اخراجات میں قابل ذکر کمی نہ کی تو عوامی بے چینی بڑھتی جاے گی جس کا فاہدہ حکومت مخالف قوتوں کو بھی پہنچے گا ۔آٹا ۔چینی۔دالوں سمیت ضروریات زندگی کی ہر شے کی قیمت عوام کی قوت خرید سے زیادہ ہو چکی ہے, دواہیوں کی قیمتوں میں بار بار کے اضافہ نے عوام الناس کی چیخیں نکلوادیں ہیں۔بجلی ,گیس اور تیل کی قیمتوں میں آے روز اضافہ نے ہر کس نا کس کو پریشان کر دیا ہے اوپر سے بڑھتی ہوئ بے روزگاری ۔ملازمین کی بے دخلیاں اور ملازمتوں کے نیے مواقعوں کا پیدا نہ ہونا اور مارکیٹ میں عدم استحکال نے ہر شے کو الٹ پلٹ دیا ہے ۔اس وقت محنت کشوں ۔طلبا۔کسانوں اور زندگی کے دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں کو چاہیے وہ خود کو منظم کرتے ہوے آگے بڑھیں اور حکمرانوں اور سابقہ حکرانوں پر مشتمل اپوزیشن سے ہٹ کر تیسرا متبادل پیش کریں۔
اجلاس کے آخر میں گلوکار علی منور نے اپنی خوبصورت آواز میں گیت بھی سناے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button